بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 18 June 2026 | پاکستان: 3 محرم 1448

گودی میڈیا کی منافرت پرمبنی سیاست

Thursday, 11 December, 2025

معروف عالمی جریدے الجزیرہ نے بھارتی گودی میڈیا کے منظم جھوٹ، سنسنی خیزی اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی کے تحت میڈیا کو ہندوتوا نظریہ کے فروغ اور پڑوسی ممالک کیخلاف نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا پر اعتبار کا بحران سب سے زیادہ خود بھارت کے اندر محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں میڈیا ادارے بتدریج سیاسی اور کارپوریٹ اتحادیوں کے قبضے میں جا رہے ہیں۔ بھارتی صحافی مینا کشی راوی نے کہا کہ “ہندوستانی میڈیا اب آزاد صحافت کا ذریعہ نہیں بلکہ پروپیگنڈا ٹول بن چکا ہے، جو پڑوسی ممالک کے خلاف نفرت اور ہندوتوا سیاست کو بڑھاوا دیتا ہے۔” صحافی سمیتہ شرما نے بھی بھارتی ٹی وی چینلز پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بھارت میں ٹی وی صحافت اعتبار کے شدید بحران کا شکار ہے، جہاں زیادہ شور اور کم معلومات پیش کی جاتی ہیں۔” انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی چینلز نے ماضی میں پاکستان کے لاہور اور کراچی پر قبضے کے جعلی دعوے بھی نشر کیے۔ہمال ساؤتھ ایشین کے ایڈیٹر رومن گوتھم کے مطابق، “بھارتی میڈیا کا مقصد عوام کو حقیقت بتانا نہیں بلکہ سرکاری بیانیے کو تقویت دینا ہے۔”بھارت میں تنقیدی صحافیوں کو پولیس کارروائیوں، مقدمات اور ملازمتوں سے محرومی کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت کی درجہ بندی مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ بھارت کا گودی میڈیا جو ریاستی سرپرستی میں جھوٹ، پروپیگنڈا اور ہندوتوا نظریہ کو پھیلا رہا ہے اب دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارتی گودی میڈیا صحافت کے نام پر سیاہ دھبہ بن چکا ہے۔ گودی میڈیا مودی حکومت کے تلوے چاٹنے میں آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ایک جھوٹ مودی سرکار بولتی آگے سو جھوٹ بھارتی میڈیا پھیلانے کا کام کرتا ہے، گودی میڈیا کے نزدیک بھارت نے پورا پاکستان فتح کرلیا۔ گودی میڈیا مودی سرکار کی عالمی ہزیمت مٹانے کیلئے پاکستانی طیارے گرانے کی فیک نیوز پھیلا رہا ہے، الحمدللہ پاکستان کے تمام طیارے مکمل محفوظ ہیں، پاکستان کی بہادر افواج ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔ پاکستان کے تمام شہر محفوظ ہیں، معمولات زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، بہادر افواج ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔ دنیا کا میڈیا بھارتی حکومت اور گودی میڈیا کا مذاق اڑا رہا ہے، پاکستان کے شہر کے قریب بھی پھٹکنا بھارت کی ناتمام خواہش ہے جو تاقیامت ناتمام رہے گی، انڈین میڈیا کارٹون نیٹ ورک بن چکا ہے۔ مودی خود ایک ہفتے سے کسی بل میں چھپ کر بیٹھا ہے، بھارت نے 1965ء میں لاہور فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا پھر عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، آج پھر بھارتی فورسز پاکستان کی فورسز سے ذلت آمیز شکست کھا رہی ہے، پاکستان کی فضائیہ تاریخ رقم کر رہی ہے، پاک فضائیہ نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے جس کی تصدیق انٹرنیشنل میڈیا کر رہا ہے۔ببھارت کے گودی میڈیا پر بیٹھے مودی نواز اینکر پرسنز نے ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ریپبلک ٹی وی کے متنازع اینکر ارنب گوسوامی نے اپنے تازہ پروگرام میں مسلمانوں اور کشمیری رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیئے جنہیں انسانی حقوق کے حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ارنب گوسوامی نے اپنے شو میں کہا کہ بھارت کے تعلیم یافتہ مسلمان ملک دشمن ہیں، ملک میں وائٹ کالر جہاد چل رہا ہے، مسلمان بھارت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے کشمیری رہنما عمر عبداللہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عمر عبداللہ منافق ہیں، ان پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح محبوبہ مفتی سمیت کشمیری سیاسی رہنماؤں کو بھی دھوکے باز اور فکری فراڈ قرار دیا۔گوسوامی نے ایک معروف بھارتی صحافی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک خاص صحافی ہے جسے حافظ سعید کو صحافت کا آئیڈیل قرار دینے پر خوب داد ملتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ارنب گوسوامی کی جانب سے “وائٹ کالر جہاد” جیسے الفاظ کا بار بار استعمال کشمیری مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیز بیانیہ تیار کرنے کی کوشش ہے جو صحافتی اخلاقیات اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔میڈیا واچ ڈاگز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی حکومت اور میڈیا ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بھارت 2023 میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 161 ویں نمبر پر ہے، 2014 کے بعد مودی کے دور اقتدار میں بھارت 21 درجے تنزلی کا شکار ہو چکا ہے۔ اکتوبر 2020 میں بھارتی صحافی صدیق کپن کو شفاف صحافت کے جرم میں گرفتار کیا گیا، صحافی صدیق کپن کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک دلت لڑکی کی مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کی تحقیقات کر رہا تھا۔بھارتی صحافی کی تحقیقات منظرعام پر آنے سے قبل ہی انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی، بھارتی صحافی کو دو سال سے زائد عرصے کے لیے جیل میں رکھا گیا، بھارتی صحافی کپن کی گرفتاری کے بعد دیگر صحافیوں میں بھی خوف و ہراس پایا جانے لگا ہے، کمیٹی برائے تحفظ صحافت کے مطابق 2014 سے 2023 کے دوران 21 صحافیوں کو بے بنیاد گرفتار کیا گیا۔ بھارتی صحافی رویش کمار کو بھی متعدد بار غیر جانب دار صحافت پر مودی اور بی جے پی کی جانب سے موت کی دھمکیاں دی گئیں، بھارتی میڈیا چینلز بھی مودی کے خوف و جبر کے زیر اثر ہیں، بھارتی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کو بھی مودی کے زیر اقتدار شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، 2023 میں مودی کے خلاف ڈاکومنٹری نشر کرنے پر بی بی سی انڈیا کی دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں