
پاک ایران تعلقات کے روشن مستقبل کا امکان یوں بھی ہے کہ دونوں مسلم ممالک کو اسلامی ہی نہیں اقوام عالم میں بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے ، پاکستان کے ایٹمی قوت کا ہونا نہ صرف ایران کے لیے باعث
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جو ان دنوں پاکستان کے نہایت اہم دورے پر ہیں، کے موقع پر دونوں برادر اسلامی ممالک نے اگلے پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب امریکی ڈالرز تک بڑھانے اوردہشت گردی کے
ائیگا جو اپنے علاقوں میں واپس آچکے ہیں۔کستان اور ایران کے وزرا ئے خارجہ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کو کم کرنے اور سکیورٹی میں قریبی تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔رواںماہ کے اوائل میں دونوں پڑوسی
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے بعد فضائی ٹریفک میں بھی بہتری آئی ہے۔ پاکستان کی سرحدوں کے اندر آنے والی پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، بشمول مغرب سے۔ ایران سمیت مغربی سمت سے پاکستان
پاک فوج کے سپہ سالار جنہوں نے اپنادورہ ایران مکمل کرکے وطن واپس پہنچ چکے ہیں، اپنے اس دوروزہ دورے کے دوران انہوںنے وہاں کی اعلیٰ ،سول وعسکری قیادت کے ساتھ مفصل ملاقاتیںکیں اور خطے میں سیکیورٹی کے حالات کی