پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا امکان، عوام کو ریلیف ملے گا یا بوجھ بڑھے گا؟

Wednesday, 25 February, 2026

اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ردوبدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق سمری تیار کر لی گئی ہے جو جلد وفاقی حکومت کو ارسال کی جائے گی۔ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر عالمی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو عوام کو فی لیٹر چند روپے تک ریلیف ملنے کی توقع ہے، تاہم روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کی موجودہ شرح قیمتوں میں کمی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے کسی بھی کمی بیشی کا براہ راست اثر قومی خزانے پر پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک مشکل توازن کا سامنا کر رہی ہے جہاں ایک طرف عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا بھی ناگزیر ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کی مجموعی شرح کو متاثر کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بڑھوتری اور صنعتی لاگت میں اضافہ براہ راست ایندھن کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔ اسی وجہ سے ہر پندرہ روز بعد ہونے والا قیمتوں کا اعلان عوامی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔

آل پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو اس کا فائدہ عام صارف تک پہنچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات قیمتوں میں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرائے فوری کم نہیں کیے جاتے، جس سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل پاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنائے۔

ادھر ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی تو وہ کرایوں میں کمی پر غور کریں گے۔ تاہم ان کا مؤقف ہے کہ صرف چند روپے کی کمی سے مجموعی اخراجات پر زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ گاڑیوں کے پرزہ جات، ٹول ٹیکس اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے مہنگائی کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اگر قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے جس کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ناگزیر ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ روزمرہ کے اخراجات پہلے ہی حد سے بڑھ چکے ہیں اور اگر ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھیں تو متوسط طبقے کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی کرے تاکہ براہ راست ریلیف دیا جا سکے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبے، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور مقامی وسائل کا استعمال مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقتی ریلیف کے ساتھ ساتھ پالیسی سطح پر اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

ذرائع کے مطابق اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اپنی سفارشات جلد حکومت کو بھجوائے گی جس کے بعد آئندہ پندرہ روز کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ عوام کی نظریں اب حکومتی فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا اس بار انہیں ریلیف ملے گا یا ایک بار پھر قیمتوں میں اضافہ برداشت کرنا پڑے گا۔

حکومت کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ فیصلہ ملکی معاشی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ تاہم حتمی اعلان تک صورتحال غیر یقینی کا شکار رہے گی۔

ملکی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر معاشی فیصلہ براہ راست عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بھی انہی اہم فیصلوں میں شامل ہے جس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ یا صنعت تک محدود نہیں بلکہ ہر گھر کے بجٹ پر پڑتے ہیں۔

آئندہ چند روز میں ہونے والا اعلان اس بات کا تعین کرے گا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ اس بار فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اور انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں