اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت گھریلو اور صنعتی صارفین کو آئندہ چند ماہ میں بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی کا فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس پیکج کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانا، صنعتوں کو سہارا دینا اور عام شہریوں کو مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزارت توانائی کے اعلیٰ حکام نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت متاثر ہوئی، تاہم حکومت نے مالی نظم و ضبط، گردشی قرضے پر قابو پانے کی حکمت عملی اور سبسڈی کی بہتر تقسیم کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں محدود کمی کے ساتھ ساتھ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی صارفین کو رعایت دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے ابتدائی 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس سلیب میں شامل صارفین کے بلوں میں خاطر خواہ کمی متوقع ہے، جبکہ 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے متوسط طبقے کو بھی ریلیف دیا جائے گا۔ صنعتی شعبے کے لیے بھی خصوصی مراعات زیر غور ہیں تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے اور پیداواری لاگت کم ہو۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی بجلی نرخوں میں پائیدار کمی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی قیمتیں کم ہونے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام ممکن ہوگا۔ تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سبسڈی کا بوجھ بڑھا تو مالی خسارہ دوبارہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومت کو متوازن پالیسی اپنانا ہوگی۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب اس فیصلے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی کئی اعلانات کیے گئے لیکن عملی سطح پر عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات کرے اور لائن لاسز میں کمی لائے تاکہ نظام پائیدار بنیادوں پر چل سکے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اس ریلیف پیکج کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا انتظام کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی، غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے ذریعے اضافی گنجائش پیدا کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری پروگرام کو متاثر کیے بغیر عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعتی تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے صنعتوں کو مسابقتی برتری ملے گی، خاص طور پر ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔ برآمدکنندگان کے مطابق توانائی کی لاگت کم ہونے سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی قیمتیں بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گی۔
دوسری جانب شہریوں نے سوشل میڈیا پر محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں بجلی کے بھاری بلوں نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے عملی ریلیف انتہائی ضروری ہے۔ کئی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی بلوں میں شامل اضافی ٹیکسز اور سرچارجز کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ مجموعی بل میں واضح کمی نظر آئے۔
توانائی ماہرین کے مطابق بجلی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کے بغیر وقتی ریلیف زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں، پن بجلی ڈیمز اور مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کی روک تھام اور ترسیلی نظام کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس ریلیف پیکج کی مکمل تفصیلات جاری کر دی جائیں گی اور نئی قیمتوں کا اطلاق اگلے ماہ کے بلوں سے ہوگا۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ اعلان کردہ اقدامات کس حد تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں اور آیا بجلی کے بلوں میں واقعی نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت شفافیت کے ساتھ اس پالیسی پر عمل درآمد کرے اور توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات جاری رکھے تو یہ اقدام نہ صرف عوامی اعتماد بحال کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔





رائے کا اظہار کریں