
بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے دعوئوں کے برعکس ”آزادی کی تحریکیں ” بھارت کیلئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے دعوی کیا ہے کہ بھارت میں آزادی پسندی کی تحریکیں تقریبا ختم ہو چکی ہے اور
بھارت میں مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے آج بھی کروڑوں لوگ خوراک جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔بھارت میں غذائی بحران دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور مودی سرکار کی مسلسل ناکام پالیسیوں کے نتیجے
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی حکومت میں اداروں کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی ایک خطرناک مہم جاری ہے۔ہندوتوا کے نظریے کو منظم طریقے
یہ بات خصوصی توجہ کی حامل ہے کہ 2001 کے آخر میں اس وقت کے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل بھارتی گجرات میں بلدیاتی چناﺅ بری طرح ہار گئے جس کے ردعمل میں وجپائی سرکار نے
نگران مشیرانسانی حقوق مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال بدترین ہے وہاں ہونے والی انتہا پسندی کو ریاست کی سپورٹ حاصل ہے ساڑھے چار سال ہوگئے میری یاسین ملک سے فون پر بات نہیں
ایودھیا میں مسلمانوں کی بابری مسجد کے مقام پر ہندو مندر کی تعمیر سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے کارندوں کو تقویت ملی ہے اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ مذہب کے نام
آزادی صحافت کے معاملے میں بھارتی صورت حال روزبروز تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔ آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں بھارت کو دو درجے کا نقصان ہوا ہے۔بھارت اب 138 ویں مقام پر ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے