قوتِ مدافعت ہمارے جسم کا وہ قدرتی دفاعی نظام (Defense System) ہے جو ہمیں ہر وقت ہوا، پانی اور خوراک کے ذریعے حملہ کرنے والے لاکھوں جراثیموں، وائرسز اور بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نظام مضبوط ہو، تو معمولی موسم کی تبدیلی یا انفیکشن جسم پر اثر انداز نہیں ہو پاتے، اور اگر انسان بیمار ہو بھی جائے تو وہ بہت جلدی صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، کمزور قوتِ مدافعت کے مالک افراد بار بار نزلہ، زکام، بخار اور پیٹ کے انفیکشن کا شکار رہتے ہیں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے مہنگی ادویات یا وٹامن کے سپلیمنٹس ضروری ہیں، جبکہ سائنسی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ہماری روزمرہ کی چند قدرتی غذائیں اور عادات ہمارے مدافعت کے نظام کو فولادی بنا سکتی ہیں۔
کچن میں موجود قدرتی اینٹی بائیوٹکس
ہمارے کچن میں ایسی کئی جڑی بوٹیاں اور مصالحے موجود ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کو کم کرنے والی خصوصیات سے مالا مال ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ادرک، لہسن اور ہلدی ہیں۔ لہسن میں ‘الیسن’ (Allicin) نامی مرکب پایا جاتا ہے جو وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف لڑنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی طرح ہلدی میں موجود ‘کرکومن’ (Curcumin) جسم کے اندرونی زخموں اور سوزش کو ٹھیک کرتا ہے۔ روزانہ صبح نہار منہ لہسن کا ایک جوڑا پانی کے ساتھ نگلنا یا رات کو سونے سے پہلے نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر پینا آپ کے مدافعت کے نظام کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لیموں، مالٹے اور مسمی جیسے ترش پھل وٹامن سی (Vitamin C) کا بہترین ذریعہ ہیں، جو خون کے سفید خلیات (White Blood Cells) بنانے میں مدد کرتے ہیں، جو جراثیموں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہیں۔
آنتوں کی صحت اور مدافعت کا گہرا تعلق
جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے جسم کا 70 فیصد سے زائد مدافعتی نظام ہماری آنتوں (Gut) میں موجود ہوتا ہے۔ ہماری آنتوں میں اربوں اچھے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ہاضمے کے ساتھ ساتھ زہریلے جراثیموں کو ختم کرتے ہیں۔ جب ہم اینٹی بائیوٹک ادویات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یا گندا کھانا کھاتے ہیں، تو یہ اچھے بیکٹیریا مر جاتے ہیں اور ہماری مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔
ان اچھے بیکٹیریا کی تعداد بڑھانے کے لیے ‘پروبائیوٹکس’ (Probiotics) کا استعمال انتہائی ضروری ہے، اور اس کا سب سے بہترین اور سستا ذریعہ دہی ہے۔ اپنے دوپہر کے کھانے میں ایک کٹوری تازہ دہی کا استعمال لازمی بنائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے معدے کو ٹھنڈا رکھے گا بلکہ آپ کے مدافعتی نظام کو بھی نئی زندگی دے گا۔
ذہنی سکون اور مدافعت کا توازن
ہم چاہے جتنی مرضی اچھی خوراک کھا لیں، اگر ہم مسلسل ذہنی تناؤ، غصے یا پریشانی کا شکار ہیں، تو ہماری قوتِ مدافعت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ جب انسان مستقل سٹریس میں ہوتا ہے، تو جسم میں ‘کورٹیسول’ (Cortisol) نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون مدافعتی نظام کے خلیات کو مفلوج کر دیتا ہے۔
لہٰذا، مدافعت بڑھانے کے لیے جتنا ضروری اچھا کھانا ہے، اتنا ہی ضروری پرسکون رہنا اور 7 سے 8 گھنٹے کی گہری نیند لینا ہے۔ نیند کے دوران ہمارا مدافعتی نظام ‘سائٹوکائنز’ (Cytokines) نامی پروٹین جاری کرتا ہے جو انفیکشن اور سوزش کے خلاف لڑتے ہیں۔ مثبت سوچیں، نیچر (قدرتی ماحول) میں وقت گزاریں، اور اپنے جسم کو آرام کا پورا موقع دیں تاکہ وہ اندرونی طور پر ہر بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں