بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 41.6°C
Tuesday, 09 June 2026 | پاکستان: 24 ذوالحجۃ 1447

جدید دور کی خاموش وبائیں اور ان سے بچاؤ کے تدابیر

Tuesday, 2 June, 2026

آج کی جدید اور تیز رفتار دنیا نے جہاں انسان کو بے شمار آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی ہیں، وہاں کچھ ایسے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں جنہوں نے ہماری صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں دنیا بھر میں ایسی بیماریوں کی شرح میں ہولناک اضافہ ہوا ہے جن کا تعلق کسی وائرس یا جراثیم سے نہیں، بلکہ ہماری طرزِ زندگی (Lifestyle) سے ہے۔ ان بیماریوں کو طبی ماہرین “خاموش وبائیں” (Silent Epidemics) کہتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کے اندر خاموشی سے جڑ پکڑتی ہیں اور وقت پر توجہ نہ دی جائے تو جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں ذیابیطس (شوگر)، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور (جگر پر چربی) اور شدید ذہنی دباؤ شامل ہیں۔

ان بیماریوں سے محفوظ رہنا اور ایک صحت مند زندگی گزارنا کوئی ناممکن کام نہیں ہے۔ صرف چند بنیادی اور روزمرہ کی عادات میں تبدیلی لا کر ہم ان خطرناک عوارض سے نہ صرف بچ سکتے ہیں، بلکہ ایک متحرک زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔

سکرین ٹائم کا بڑھتا ہوا استعمال اور جسمانی سستی

موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزرتا ہے۔ چاہے وہ دفتر میں کمپیوٹر کے سامنے کام کرنا ہو یا گھر آ کر گھنٹوں موبائل اور ٹیلی ویژن کی سکرین کے سامنے گزارنا ہو۔ اس مسلسل سستی اور جمود کے نتیجے میں جسم کی چربی پگھلنے کا عمل سست ہو جاتا ہے، جس سے سب سے پہلے وزن بڑھتا ہے اور پیٹ کے گرد چربی جمع ہونے لگتی ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق، جو لوگ دن میں 7 سے 8 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میں دل کے امراض اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔ اس کا حل انتہائی آسان ہے۔ ہر ایک گھنٹے کے مسلسل کام کے بعد اپنی سیٹ سے اٹھیں، 5 منٹ کے لیے چہل قدمی کریں یا جسم کو تھوڑا اسٹریچ (Stretch) کریں۔ شام کے وقت سکرین کو الوداع کہہ کر کسی نہ کسی جسمانی کھیل یا چہل قدمی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

فاسٹ فوڈ اور مصنوعی مٹھاس کے نقصانات

ہماری خوراک میں قدرتی اشیاء کی جگہ اب ڈبہ بند، تلی ہوئی اور کیمیکلز سے بھری غذاؤں نے لے لی ہے۔ بازار میں ملنے والے برگر، پیزا، چپس اور کاربونیٹڈ مشروبات میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ان میں جسم کے لیے ضروری وٹامنز اور فائبر بالکل نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ، سفید چینی اور میدے کا بے دریغ استعمال ہمارے لبلبے کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے انسولین بنانے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور انسان شوگر کا مریض بن جاتا ہے۔

ان پوشیدہ بیماریوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوبارہ قدرتی اور سادہ غذا کی طرف لوٹیں۔ اپنی روزمرہ کی خوراک میں ہری سبزیاں، دالیں، پھل اور اوٹس (جَو) شامل کریں۔ گھر کے پکے ہوئے کھانے کو ترجیح دیں اور کھانا پکانے کے لیے ڈالڈا یا عام گھی کے بجائے زیتون کے تیل یا سرسوں کے تیل کا استعمال کریں۔

باقاعدہ طبی معائنے کی اہمیت

ان تمام امراض کو “خاموش” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ابتدائی سالوں میں کوئی واضح درد یا تکلیف ظاہر نہیں کرتے۔ اکثر لوگوں کو اپنی شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی دوسرے مسئلے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں یا جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

اس کا واحد اور بہترین حل یہ ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد ہر انسان سال میں کم از کم ایک بار اپنے بنیادی خون کے ٹیسٹ ضرور کروائے، جن میں لپڈ پروفائل (کولیسٹرول)، فاسٹنگ بلڈ شوگر، اور جگر و گردوں کے ٹیسٹ شامل ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے پر ہی کولیسٹرول یا شوگر کی سطح میں تھوڑی سی خرابی نظر آ جائے، تو اسے بغیر دوا کے، صرف غذا اور ورزش سے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں