بلاشبہ پانچ اگست2019 کو بھارت نے ایک بار پھر کشمیر پر شب خون مارا، تلخ حقیقت یہ ہے کہ کروڈوں کشمیری گزشتہ چار برسوں سے بھارت کی نافذ کردہ غیر اعلانیہ پابندیوں کا یوں شکار ہوچکے کہ وہ عملا بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،مودی سرکار مقبوضہ وادی کی مسلمان آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، کشمیریوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کیا جارہا ہے، غیر ریاستی ہندووں کو بتدریج مقبوضہ کشمیر میں بہانے سے آباد کرنے کی پالیسی روبہ عمل ہے تاکہ درجنوں خداوں کو ماننے والوں کی تعداد بتدریج ہی سہی مگر بڑھ جائے، افسوس صد افسوس کہ آج جب دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرچکی ہے مگر کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق نہیں دیا جارہا ، اقوام متحدہ اور مغربی دنیا تو ایک طرف خود مسلم دنیا آگے بڑھ کر کشمیریوں کے دکھ درد بانٹنے پر آمادہ نہیں، اس سچائی سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ کوئی اور نہیں تن تنہا کشمیری ہی لڑ رہے ہیں، چانکیہ سیاست کے پیروکار ایک خدا ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والوں پر مقبوضہ وادی میں ہی نہیں بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی ظلم وستم کے پہاڈ توڈ رہے ہیں، بھارتی جمہوریت کے تاریک پہلووں کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل پیرا انتہاپسند ہندو جتھے مسلمانوں ہی دیگر اقلیتوں پر زمین تنگ کررہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برداری کی خاموشی کا سوال یوں بے معنی ہے کہ عصر حاضر کے مہذب کہلانے والے ممالک صرف اپنے معاشی مفادات کے تابع ہیں، اس پس منظر میں مسلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین میں یوں مماثلت ہے کہ دونوں جانب مظلوم مسلمان ہی ہیں، دونوں قوموں کے علاقوں پر ایسی ریاستیں قابض ہیں جو کسی سیاسی، اخلاقی اور قانونی ضابطہ کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ، ایک تاثریہ ہے کہ کراہ ارض پر طاقت کا اصول ہی حتمی ہے یعنی جو ملک جس قدر طاقتور ہے وہ اپنے مفادات کے حصول اور ان کو تحفظ دینے میں اتینا ہی موثر ، یقینا اقوام متحدہ کا کردار کئی حوالوں سے نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ بڑی حد تک قابل مذمت بھی ہے، یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ دنیا میں انصاف اور امن کا بول بالا کرنے کے دعویدار ادارے نے اب تک کشمیر ہو یا فلسطین مظلوموں کی کس حد تک مدد کی ہے، یہ تجزیہ بڑی حد تک درست ہے کہ بااثر عالمی اداروں نے رائج نظام یوں ترتیب دے رکھا ہے کہ کمزور ممالک ہرگز نہ سراٹھا سکیں، پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اگر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دیرینہ دوست چین نہ ہوتا تو نئی دہلی اسلام آباد کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا ، یہ کہنا بڑی حد تک درست ہوگا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی برداری کو ہمنوا بنانے کےلئے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہونا ہوگا، اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اندرونی مسائل کے باوجود اقوام عالم میں کشمیریوں کا مقدمہ سیاسی، سفارتی اوراخلاقی میدان میں پوری قوت کے ساتھ پیش کررہا ہے، اسلام آباد کو باخوبی اندازہ ہے کہ مغربی ممالک چین دشمنی یا پھر اپنے معاشی مفادات کے سبب نئی دہلی کے جرائم کے خلاف آواز اٹھانے پر آمادہ نہیں، اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان کی عالمی فورمز پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کےلئے آواز اٹھانا قطعاً آسان نہ تھا، مسلم لیگ ن کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے ساتھ کسی طور پر کشیدیگی کے حق میں نہیں،قومی تاریخ کے کسی بھی طالب علم سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ یہ کوئی اور نہیں میاں نواز شریف ہی تھے جنھوں نے بھارتی وزیر اعظم کو واہگہ بارڈر کے راستہ پاکستان آنے کی کامیاب دعوت دی، اٹل بہاری واجپائی کا مینار پاکستان کے سایے میں کھڑے ہوکر تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا یقینا غیر معمولی واقعہ تھا، میاں شبہازشریف نے دراصل اپنے بڑے بھائی کی کشمیر پالیسی کو یوں آگے بڑھایا کہ ایک سے زائد بار نریندر مودی کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت حل کرنے کی تجویز دی مگر افسوس بھارتی وزیراعظم نے مثبت جواب نہ دیا، اس تلخ سچائی کو سمجھنے کےلئے سقراط جیسی دانش کی ضرورت نہیں کہ پاک بھارت امن سے نہ صرف آرپار کے کروڑوں انسانوں کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں خطے سمیت بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اقوام عالم کا بھی بھلا ہوگا، بظاہر مودی سرکار کے ہوتے ہوئے بہتری ممکن نہیں، بی جے پی کا طرز سیاست ہمیں اس یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انتہا پسند ہندووں کے مفادات درحقیقت تشدد اور نفرت سے نتھی ہوچکے، تنازعہ کشمیر در اصل یوں اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اور بھارت میں پانچ جنگیں ہوچکیں اب اگر نئی دہلی سرکار اگست 1999 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو عین ممکن ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی وقت پھر آمنے سامنے آ جائیں ۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں