بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 38.6°C
Tuesday, 09 June 2026 | پاکستان: 24 ذوالحجۃ 1447

سانحہ عیسیٰ نگری۔۔۔!

Wednesday, 23 August, 2023

جڑانوالہ عیسیٰ نگری کے دلخراش واقعہ سے پاکستان کا ہر محب وطن شہری افسردہ ہے۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ عیسیٰ نگری پہنچے ، متاثرین خاندان سے اظہار یکجہتی کیا، متاثرین کو گلے لگایا اور ان میں امدادی چیک تقسیم کیے۔نگران وزیراعظم نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ” انتہا پسندی کا کسی مذہب، زبان یاعلاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے، سانحہ جڑانوالہ معاشرے میں موجود ایک مرض کی نشاندہی کررہا ہے،کوئی بھی گروہ حملہ آور ہوگا تو ریاست ایکشن میں آئے گی،ریاست اور ریاست کے قوانین مظلوم کے ساتھ ہیں،ایک دوسرے کے احساس سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے، کسی کو نہیں پتہ آنے والا کل کیا لیکر آئے گا، مستقبل میں آنے والا وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ کوئی بھی معاشرہ عدل وانصاف سے ہی قائم رہ سکتا ہے، مجھے بہت خوشی ہوئی اگلے چیف جسٹس جڑانوالہ تشریف لائے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بنانے میںمسیحی برادری کا اہم کردار ہے۔ملٹری لیڈر شپ نے یقین دلایا، اقلیتوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ہر شہر ی کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، میں کوئی فتویٰ جاری نہیں کرنا چاہتا، ہر ایک کو اپنے گریبان میںجھانکنے کی ضرورت ہے، کوئی بھی معاشرہ عدل وانصاف کے تحت قائم ہوتا ہے، اصول یہ ہے کہ وہاں بسنے والے لوگوں کے درمیان انصاف کا حصول یکساں طور پر تمام لوگوں میں موجودہوتو معاشرہ قائم رہتا ہے۔اقلیتی برادری کا تحفظ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، دشمنان ملک کا پہلا وار انصاف کے نظام پر ہوتا ہے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کو یورپ، امریکہ اور بھارت میں ٹارگٹ کیا جارہا ہے، ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے میں اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں۔”نگران وزیراعظم انوار الحق کے الفاظ حقیقت پر مبنی ہیں،معاشرہ عدل و انصاف پر قائم رہ سکتا ہے۔انصاف ناگزیر ہے، کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ ہرشہری کا تحفظ ریاست اور ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔سانحہ عیسیٰ نگری پر ہر پاکستانی غم زادہ اور شرمندہ ہے۔ وطن عزیز پاکستان میںاس طرح واقعات ناقابل برداشت ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا، اس لئے اس ریاست میں مسلمان ، عیسائی ، ہندو، سکھ، پارسی اور تمام مذاہب کو مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے ۔ پاکستان میں سب انسانوں کو مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ وطن عزیز پاکستان میں کسی شہری یا معزز مہمانوںکو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے ۔عہد رسالت میںغیر مسلموں کے معاشی، سیاسی اور تعلیمی حقوق محفوظ تھے ، وہاں ان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔نجران کے عیسائی مدینہ منورہ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عصر سے فارغ ہوئے۔ جب عیسائیوں کی عبادت کا وقت ہوا تو ان کو پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ ان کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے دیں اور انھوں نے مشرق کی طرف منہ کرکے عبادت کی۔پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوہ سینا کے متصل سینٹ کیتھرائن کے راہبوں اور عیسائیوں کو پوری آزادی اور وسیع حقوق دیے تھے اور مسلمانوں کو ان کے بارے میںاحکامات صادر فرمائے تھے کہ (الف) عیسائی گرجوں، راہبوں کے مکانات اور ان کی زیارت گاہوں کوان کے دشمن سے بچاﺅ۔(ب)ہر طرح کی تکلیف دہ چیزوں سے ان کی پوری طرح حفاظت کرو۔(ج) ان پر بے جا ٹیکس مت لگاﺅ۔ (د)کسی کو ان کی حدود سے خارج مت کرو۔(ر)کسی عیسائی کو مذہب چھوڑنے پر مجبور نہ کرو۔(س)کسی راہب کو ان کی خانقاہ سے مت نکالو۔(ش)کسی زائر کو زیارت سے مت روکو۔ (ص) مسلمانوں کے مکانات اور مساجد کی تعمیر کی غرض سے گرجے مت مسمار کرو۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام نوع انسانیت کے ساتھ مساوات، عدل و انساف ، حسن اخلاق کا معاملہ فرماتے ۔ آپ ﷺ مسلم و غیر مسلم سب کی خوشی اور الم میں شریک ہوتے تھے۔ آپ ﷺجہاں مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، وہاں غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمدردی اور غم گساری کا رویہ اپناتے تھے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقلیتوں، ان کے عبادت گاہوں ، ان کے مکانات کے تحفظ کےلئے ہدایات جاری کرتے تھے۔ اقلیتوں، ان کے عبادت گاہوں ، ان کے مکانات کو مسمار کرنا مسلمانوں کا کام نہیں ہے تو عیسیٰ نگری (جڑانوالہ) میں عبادت گاہوں اور مکانات کو کیوں مسمار کیا گیا؟یہ کس کو خوش کرنے کےلئے کیا گیا؟غیر مصدقہ خبر یا اطلاع پر اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں اور مکانات کو کیوں نقصان پہنچایا گیا ؟اگر خدانخواستہ کوئی بھی شخص کسی مذہب ، فرقے کی کتاب یا پےغمبر یا کسی مذہب کے رہنما کی گستاخی کرتا ہے تو تمام ثبوتوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر صاحب ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صاحب یا عدالت میں جائیں،ان کے خلاف مقدمہ لڑیں، مجرم کو ضرور سزا ملے گی لیکن قانون کو ہاتھ میں قطعی نہ لیں اور نہ ہی کسی مذہب یا فرقے کے عبادت گاہوں ، ان کی مقدس کتابوں اور ان کے مکانات کو نقصان نہ پہنچائیں۔علاوہ ازیں نجی محافل یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ بعض افراد امریکہ اورمغربی ممالک کے ویزے کے حصول کےلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں،مقد س کتاب اور مذہبی کارڈ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ ان افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے مذموم اور ذاتی مقاصد کےلئے ایسے وارداتوں سے باز آجائیں، امریکہ اور مغربی ممالک سے استدعا ہے کہ اےسے افراد کی حوصلہ شکنی کریں، ایسے افراد معاشرے کےلئے ناسور ہیں۔ اگر وہ یہاں ذاتی مفاد کے لئے کوئی جرم کرسکتے ہیںتو کیاوہ افراد امریکہ اور مغربی ممالک میں ذاتی مفادات کےلئے جرم نہیں کرسکتے ؟ایسے افراد صرف مسلمانوں کے دشمن نہیں بلکہ عیسائیوں اور سب انسانوں کے چھپے دشمن ہیں،ایسے مجرموں کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا ہے لہذا مسلمان ، عیسائی ، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے پیروکار ایسے مجرموں کی قطعی حمایت نہ کریں۔اگرملک دشمن عناصرایسے وارادتوں میں ملوث ہیں تو پاکستان کے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو چاہیے کہ ایسے عناصر پر نظریں رکھیں اور ایسے لوگوں کو قانون کے حوالے کریں ۔ اس سلسلے میں ارباب اختیار سے بھی گذارش ہے کہ ایسے معاملات میں کسی کے دباﺅ میں نہ آئیں بلکہ قانون کے مطابق عدل وانصاف کا معاملہ اپنائیں۔قارئین کرام! یہ وطن پاکستان کے تمام شہریوں کا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔ پاکستان میں ہر شہر ی دوسرے شہری کا احترام کریں۔ پاکستان خوبصورت ملک ہے اور اس میں سب پیارو محبت سے رہیں۔ہر خبر کی تصدیق کیا کریں، قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، جذبات کی بجائے ہوش سے کام لیا کریں،وطن عزیز پاکستان میں عیسیٰ نگری جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں