احسن اقبال بار بار جو طالبان خان کا نام لے رہے تھے تو شہباز شریف کی وہ بات بھی یاد رکھیں کہ جب پنجاب میں دھماکے ہو رہے تھے تو موجودہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم تو طالبان کے ساتھی ہیں ہمارے علاقے میں دھماکے تو نہ کریںاور خواجہ آصف نے کہا تھا کہ ہم عمران خان کے مقابلے میں بڑے لبرل ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور دوسرا کچھ سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ نون لیگ میں سوائے احسن اقبال کے کوئی اور پڑھا لکھا نہیں لیکن یہ صاحب بھی بیرون ملک گئے تو بے عزتی کرا کے واپس آ گئے۔احسن اقبال کا آکسفورڈ یونین میں خطاب، جس میں انہوں نے لبرل جمہوریت کی ناکامی کو عالمی جنوب کی بدحالی کا سبب قرار دیا، ایک سیاسی بیان سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ دراصل ان کی اپنی حکومتوں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور مغربی سامعین کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ جمہوریت کا نہیں بلکہ ان حکمرانوں کی کرپشن اور نااہلی کا ہے، جنہوں نے ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا، ادارے تباہ کر دیے اور عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اگر جمہوریت ہی ناکام ہوتی تو بھارت، جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور جیسے ممالک ترقی کی بلندیوں کو نہ چھوتے۔پاکستان میں درحقیقت چوری کی جمہوریت نافذ رہی، جہاں عوامی نمائندے لوٹ مار کرتے رہے اور پھر مغربی فورمز پر جا کر اپنی ناکامی کا الزام کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔احسن اقبال نے اپنی تقریر میں عالمی مالیاتی نظام پر بھی تنقید کی، مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان بار بار قرضے کیوں لیتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی حکومتیں قومی وسائل کو لوٹتی ہیں اور پھر ملکی معیشت کو بچانے کےلئے عالمی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ قرضے تو ترقی یافتہ ممالک بھی لیتے ہیں، مگر وہ ان پیسوں کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ پیسہ یا تو لندن کی جائیدادوں میں لگایا جاتا ہے یا پھر سوئس بینکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ جو کرپشن 2013 سے 2018 تک ہوئی، جس میں CPEC جیسے اہم منصوبے تک لوٹ لیے گئے، وہ سب احسن اقبال اور ان کی حکومتوں کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ماحولیاتی بحران کا ذکر کر کے بھی احسن اقبال نے حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ یہ درست ہے کہ ترقی یافتہ ممالک زیادہ صنعتی آلودگی پھیلاتے ہیں، مگر پاکستان کا ماحولیاتی بحران اس کی اپنی کرپٹ حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے بھی ہے۔ لاہور کا سموگ، دریاں کی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور ناقص شہری منصوبہ بندی یہ سب پاکستانی حکومتوں کے پیدا کردہ مسائل ہیں، جنہیں حل کرنے کی بجائے اس کا الزام مغربی دنیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 2013سے 2018کے دوران درختوں کی بے دریغ کٹائی کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے پاکستان کے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔احسن اقبال نے کشمیر اور فلسطین کا ذکر کر کے اپنی تقریر کو جذباتی رنگ دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارتی محاذ پر جو ناکامیاں ہوئیں، وہ انہی جیسے سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہوئیں۔ کشمیر کا مسئلہ جمہوریت کی ناکامی نہیں، بلکہ پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس میں بھارت کو تجارتی رعایتیں دی جاتی رہیں اور کشمیری عوام کے حق میں عملی اقدامات کرنے کے بجائے محض زبانی بیانات دیے جاتے رہے۔ فلسطین کے معاملے میں بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا، جہاں پاکستان کی حکومتیں سفارتی سطح پر کوئی موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں۔عمران خان کی پالیسیوں کو اگر دیکھا جائے تو ان کا موقف ہمیشہ اصولی رہا۔ انہوں نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی، مگر امریکہ کی غلامی سے انکار کیا۔ انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے، چین کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کیا اور مسلم دنیا کے مسائل پر دوٹوک موقف اختیار کیا۔ ان کے دور میں پاکستان عالمی سیاست میں ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا، جبکہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان آج خطے میں بالکل تنہا ہو چکا ہے۔ ایران، افغانستان، چین ، روس سب پاکستان سے فاصلہ کر چکے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے سفارتی طور پر مکمل ناکام ہو چکی ہے۔آج جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے، وہ اسی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو عمران خان کو ہٹانے کے بعد اقتدار میں آئی اور ملک کو مکمل طور پر دیوالیہ کر دیا۔ عمران خان کے دور میں نہ صرف معیشت بہتر ہو رہی تھی بلکہ پاکستان خطے میں ایک متحرک اور مضبوط ملک کے طور پر کھڑا تھا۔ مگر آج، ان ہی کرپٹ حکمرانوں نے ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر کمزور کر دیا ہے۔عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کے وقار، خود مختاری اور ترقی کےلئے کام کیا، مگر موجودہ حکمرانوں نے ہر چیز کا بیڑا غرق کر دیا۔احسن اقبال جیسے سیاستدان آکسفورڈ میں کھڑے ہو کر جتنی مرضی تقریریں کر لیں، حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی بربادی کے اصل مجرم وہ خود ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں